8 اپریل 2012 - 19:30

انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والے بہت سے افراد نے ملکۂ برطانیہ کی بادشاہت کی ساٹھویں سالگرہ کی تقریب میں بحرین کے بادشاہ کی شرکت کی مخالفت کی ہے۔

ابنا: انسانی حقوق کے لۓ سرگرم افراد بحرین کے بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کو ہی اس ملک میں سعودی عرب کے فوجیوں کے ہاتھوں کۓ جانے والے عوام کے وحشیانہ قتل عام کا ذمے دار جانتے ہیں۔ ان تشدد آمیز واقعات میں دسیوں عام شہری شہید اور کئی ہزار گرفتار ہوچکے ہیں یا ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں شہزادے سلمان بن حمد آل خلیفہ کو چین سے نہیں رہنے دیں گے۔ برطانوی حکومت ایسی حالت میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی حمایت کررہی ہے کہ جب برطانیہ اپنے آپ کو دنیا میں انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ ، امریکہ اور انسانی حقوق کی حمایت کا دعوی کرنے والے بعض دوسرے ممالک اپنے مفادات کے حصول کے لۓ انسانی حقوق کے تحفظ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس ملک کے مفادات امریکہ اور برطانیہ کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں اس ملک میں کی جانے والی انسانی حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور جو ملک امریکی پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے ان کی ہر طرح کی کارکردگی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب آل خلیفہ کی شاہی حکومت امریکہ اور برطانیہ کی مدد حاصل کرنے اور اپنے ملک میں نام نہاد اصلاحات جیسے دکھاوے کے بعض کام انجام دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ عالمی برداری کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے مطابق عمل کررہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی برادری کو دھوکہ دینا ہے البتہ یہ مقصد بھی حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ خاص کر اس بات کے انکشاف کے بعد کہ برطانیہ نے بحرین اور یمن کی حکومت کے ہاتھ جاسوسی کے جدید ترین ہتھیار فروخت کۓ ہیں بحرین میں جمہوریت کے دعوی کا کھوکھلاپن کھل کر سامنے آچکا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب برطانوی حکومت صیہونی قابضوں کے خلاف استقامت کرنے والی شام کی حکومت کو کمزور کرنے کے لۓ اپنے تمام تر وسائل اور ذرائع استعمال کررہی ہے۔ بحرین میں عوامی احتجاجات کا نیا مرحلہ رواں سال چودہ فروری سے شروع ہوا اور عوام نے حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے کۓ۔

بحرین کی شاہی حکومت گزشتہ ایک برس کے دوران اس ملک کے عوام کے پرامن مظاہروں کو اپنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے لیکن چونکہ بحرین کی شاہی حکومت کے مفادات اور یورپ کے مفادات میں مکمل طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے اس لۓ یورپ آسانی کے ساتھ بحرین کی حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ .......

/169